بنگلورو،11؍اکتوبر(ایس او نیوز)دریائے مہادائی کے تنازعہ کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے 21؍ اکتوبر کو مرکزی حکومت کی طرف سے طلب کی گئی کرناٹک مہاراشٹرا اور گوا کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ سے قبل کرناٹک کا موقف پیش کرنے کی تیاری کے سلسلے میں18؍ اکتوبرکو کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ 21؍ اکتوبر کو مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی قیادت میں کرناٹک اور گوا کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ ہوگی، میٹنگ سے قبل سدرامیا کل جماعتی اجلاس طلب کرکے کرناٹک کی طرف سے جو موقف اپنایا جانا ہے اس پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے مشوروں سے دریائے مہادائی سے کرناٹک کو پانی فراہم کرنے کے سلسلے میں مانگ رکھی جائے گی۔ کاویری کے پانی کی تقسیم کے معاملے میں بھی سدرامیا نے چار مرتبہ کل جماعتی میٹنگوں کا اہتمام کیااور تمام کے مشوروں سے حکومت نے اپنا موقف واضح کیا۔ مہادائی مسئلے پر پہلی بار کل جماعتی اجلاس کا اہتمام کیاجارہا ہے۔ غالباً 18؍اکتوبر کو یہ کل جماعتی میٹنگ منعقد ہوگی۔ یاد رہے کہ مہادائی سے پانی کا مطالبہ کرتے ہوئے پچھلے ایک سال زائد عرصہ سے نولگند اور نرگند میں کسان احتجاج میں مصروف ہیں۔ مہادائی ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے اس سے کرناٹک سے جو ناانصافی ہوئی ہے اسے دور کرنے کیلئے مہاراشٹرا ، کرناٹک اور گوا حکومتوں نے آمادگی ظاہر کی ہے۔یاد رہے کہ ٹریبونل نے بھی باہمی میٹنگ کے ذریعہ اس تنازعہ کو سلجھانے کا مشورہ دیاتھا۔اس میٹنگ کی پہل خود مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ نے کی تھی۔ میٹنگ کی مناسبت سے کل گوا کے وزیراعلیٰ لکشمی کانت پاریکر نے وہاں کل جماعتی اجلاس طلب کیا اور وہاں حکومت کی طرف سے مہادائی تنازعہ میں جو موقف اختیار کیا جانا چاہئے وہ وضع کیا، اس کے فوری بعد سدرامیا نے کل جماعتی اجلاس کے اہتمام کی پہل کی۔